پٹنہ 28 جنوری(ایس او نیوز): جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے رہنما نتیش کمار نے پھر ایک بار بی جے پی گٹھ بندھن میں شامل ہوکر اتوار کو نویں مرتبہ بہار کے وزیراعلی کا حلف لیا۔ ان کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سمراٹ چودھری اور وجے سنہا سمیت چھ دیگر نے بھی کابینی وزراء کے طور پر حلف لیا۔
اس سے قبل نتیش کمار نے بہار کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنا استعفیٰ گورنرراجندر آرلیکر کو سونپ دیا۔ اس کے فوراً بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میں نے بحیثیت وزیر اعلیٰ اپنا استعفیٰ گورنر کو سونپ دیا ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ اتحاد میں معاملات ٹھیک نہیں چل رہے تھے اور اس کے ساتھ حکومت کرنا مشکل ثابت ہورہا تھا۔ میں سب دیکھ رہا تھا، لیکن کہا کچھ نہیں۔ میں نے لوگوں کی رائے لی، ان کی جو رائے سامنے آئی اس پر عمل کیا اور حکومت ختم کردی۔ ‘‘مہاگٹھ بندھن سے استعفیٰ کے بعد نتیش کمار نے بی جے پی میں واپس گھر واپسی کرتے ہوئے دوبارہ وزیر اعلیٰ کا حلف لیا۔ د
راج بھون میں منعقدہ تقریب میں بہار کے گورنر راجیندر وشواناتھ ارلیکر نے نتیش کمار کے بعد بی جے پی کے سمراٹ چودھری، وجے کمار سنہا، جے ڈی یو کے وجے چودھری، وجیندر یادو، شرون کمار، بی جے پی کے ہی پریم کمار، ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) کے سنتوش کمار اور سومن کمار اور آزاد سمیت کمار سنگھ نے کابینہ کے وزراء کے طور پر حلف لیا۔
اس موقع پر بی جے پی کے حامیوں نے جئے شری رام اور مودی مودی کے نعرے لگائے۔ اس کے ساتھ ہی ایچ اے ایم کے حامیوں نے جئے بھیم کے نعرے لگائے اور جے ڈی یو کے حامیوں نے نتیش کمار کے حق میں نعرے لگائے۔
حلف برداری کی تقریب میں بہار قانون ساز کونسل کے چیئرمین دیوش چندر ٹھاکر، بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا ، مرکزی وزیر پشوپتی کمار پارس، ایچ اے ایم کے قومی صدر جیتن رام مانجھی، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے قومی صدر چراغ پاسوان، جے ڈی یو کے رکن پارلیمنٹ للن سنگھ، بی جے پی لیڈر منگل پانڈے اور راجیو پرتاپ روڈی اور کئی دیگر معززین موجود تھے۔
نتیش کمار کے مہا گٹھ بندھن سے استعفیٰ دینے اور واپس بی جے پی شامل ہونے کو لے کر کانگریس پارٹی کے صدر ملیکارجن کھرگے نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے تھے کہ ایسا ہوگا۔ ملک میں ’آیا رام گیا رام ‘ جیسے بہت سے لوگ ہیں۔